Article

“آپ جب تک نکاح کو ختم نہیں کریں گے عورت کے ساتھ ظلم جاری رہے گا “عورت مارچ میں شریک بزرگ کا عجیب و غریب مطالبہ سامنے آگیا

2062 views

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo PInk will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

آٹھ مارچ کا دن دنیا بھر میں یوم عورت کے حوالے سے منایا جاتا ہے اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر میں عورتوں کے حقوق کی تنظیمیں مارچ کا اہتمام کرتی ہیں سیمینار منعقد کیۓ جاتے ہیں اور عورتیں اپنے مطالبات پیش کرتی ہیں جو ان کے مطابق پورے نہیں ہو رہے ہوتے ہیں

گزشتہ سال سے پاکستان کے اندر اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں عورت مارچ کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں عورتیں اور مرد مختلف مطالبات والے پوسٹر اور ہورڈنگز ہاتھوں میں اٹھاۓ اس مارچ میں شرکت کرتے ہیں جن پر کچھ ایسے مطالبات بھی ہوتے ہیں جن کو متنازعہ قرار دیا جاتا ہے

جیسے “اپنا کھانا خود گرم کرو اور میرا جسم میری مرضی ،  اپنا بستر خود گرم کرو وغیرہ وغیرہ ایسے مطالبات ہیں جو بظاہر آزادی کی علم بردار عورتوں کی جانب سے کیۓ  جا رہے ہیں مگر ان کا تعلق عورتوں کے حقیقی مسائل سے قطعی نہیں ہے آج کی عورت کا سب سے بڑا مسلہ تعلیم ہے جس کے یکساں مواقع بڑی شہروں کی عورت کو تو میسر ہیں مگر گاؤں دیہاتوں میں اس کا گزر تک نہیں ہے مگر عورتوں کی تنظیمیں اپنی تمام تر توانائی ایسے مطالبات پر ضائع کرتی نظر آرہی ہیں جس کا فائدہ خود عورتوں تک کو نہیں ہو رہا ہے

ایسی ہی مارچ میں شریک ایک بزرگ مرد سے یہ پوچھا گیا کہ عورتوں کا سب سے بڑا مسلہ کیا ہے تو اس کے جواب نے سب کو حیران ہی کر ڈالا ان بزرگ شخصیت کے مطابق جنہوں نے اپنا نام محمد مظاہر  بتایا عورتوں کا سب سے بڑا مسلہ نکاح ہے جب تک نکاح ختم نہیں ہو گا تب تک عورتوں کی حق تلفی کا خاتمہ ہونا ممکن نہیں ہے

اپنے دعوی کی دلیل میں ان کا یہ کہنا تھا کہ ہندوستان میں نکاح کا باقاعدہ نفاذ کرنے والے انگریز تھے جنہوں نے 1825 میں باقاعدہ نکاح کا قانون نافذ العمل کیا

اس حوالے سے بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ درحقیقت عورتوں کی آزادی کے نعرے کے پیچھے یہی حقیقت پوشیدہ ہے کہ مغربی معاشرت کی پروردہ خواتین مشرقی معاشرے میں سے نکاح کا خاتمہ کر کے مغربی انداز کی زندگی کا نفاذ کرنے کی خواہشمند ہیں

مغربی معاشرے میں نکاح کے بغیر جنسی تعلق قائم کرنے والی خواتین پر ان کے ساتھیوں کی جانب سے گھریلو ذمہ داریاں عائد نہیں ہوتی ہیں اور وہ اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کے لیۓ آزاد ہوتی ہیں اور اب مشرقی معاشرے میں بھی عورتوں کے حقوق کے نعرے لگا کر درحقیقت نکاح کے دینی فریضے کے خاتمے کی کوششیں کی جا رہی ہیں

Snap Chat Tap to follow
Place this code at the end of your tag: