کیا آپ جانتے ہیں کہ کن وجوہات کی بنیاد پر اسلام اور سائنس اسقاط حمل کے خلاف ہیں؟

Article

کیا آپ جانتے ہیں کہ کن وجوہات کی بنیاد پر اسلام اور سائنس اسقاط حمل کے خلاف ہیں؟

197 views

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo PInk will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

پچھلی کچھ دہائیوں سے اس بات کا واویلا کیا جارہا ہے کہ دنیا کی آبادی میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس اضافے کے سبب وسائل جن میں روٹی کپڑا اور مکان شامل ہے پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے ۔ اور اس بڑھتے ہوۓ دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لۓ یہ لازمی ہے کہ آبادی کی شرح کم سے کم رکھی جاۓ ۔ اور اسقاط حمل اور اس کے محفوظ طریقوں کی اشاعت کو عام کیا جاۓ

اس واویلے کا اثر یہ ہوا کہ مشرق اور مغرب دونوں جانب اسقاط حمل کوجائز قرار دیۓ جانے کی تحاریک کا آغاز ہو گیا یہاں تک کہ کئی مغربی ممالک میں تو اس کو جائز بھی قرار دے دیا گیا مگر اب پچھلے کچھ سالوں سے اس حوالے سے اسلام اور سائنس ایک ہی پیج پر نظر آرہے ہیں۔

مذہبی حلقوں کے نزدیک تو ابارشن یا اسقاط حمل ہمیشہ ہی سے ناجائز تھا مگر اب سائنسی تحقیقات سے بھی یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اسقاط حمل ناجائز ہے اسی سبب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے منشور میں اسقاط حمل کو ناجائز قرار دیا ہے ۔

اسلامی نقطہ نظر سے اسقاط حمل کیوں ناجائز ہے ؟

قد خسر الذين قتلوا أولادهم سفها بغير علم وحرموا ما رزقهم الله افتراء على الله قد ضلوا وما كانوا مهتدين –  الانعام

تحقیق خسارے میں رھے وہ لوگ جنہوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو بیوقوفی اور بے علمی سے اور محروم کر لیا اپنے آپ کو اس رزق سے جو اللہ نے ان کو عطا فرمایا تھا جھوٹ باندھتے ھوئے اللہ پر کہ وہ نومولود کو نہیں پال سکے گا حق بات یہی ھے کہ یہ لوگ بھٹک گئے ھیں اور ھدایت یافتہ نہ رھے 

اس ڈر سے کہ پیدا ہونے والے بچے کے کھانے پینے کے اخراجات برداشت نہیں کر پائیں گے بچے کو ضائع کرنا اسلام میں قطعی ممنوع ہے ۔اور حمل کو ضائع کرنا ایک انسانی جان کو ضائع کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے.

سپریم علماء کونسل  کے اجلاس میں منظور شدہ قرار داد میں ہے کہ،

حمل کے کسی بھی مرحلہ میں  اسقاط حمل جائز نہیں ہے، البتہ کسی شرعی عذر  کی بنا پر انتہائی  سنگین اور دشواری کی حالت میں اس کی اجازت ہے۔

اگر حمل کا ابھی پہلا مرحلہ  یعنی ابتدائی چالیس دن  کی مدت میں ہو تو شرعی مصلحت، یا بڑے نقصان سے بچنے کیلئے ساقط کرنا جائز  ہے، تاہم اس مدت میں صرف اس وجہ سے حمل ساقط کرنا کہ  بچوں کی پرورش میں مشقت ہو گی، یا انکی تعلیم و تربیت کے خرچے  برداشت نہیں ہوں گے، یا اس لئے ساقط کرنا کہ جتنے بچے  موجود ہیں یہی کافی ہیں،  تو یہ درست نہیں ہے”

سائنسی نقطہ نظر سے اسقاط حمل کروانا کیوں ناجائز ہے

وہ افراد جو ہر چیز کو سائنس کے اور عقلی پیراۓ میں جانچنا چاہتے ہیں ان کے لۓ بھی یہ بات بہت قابل غور ہے کہ اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ چارایسی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر سائنس اسقاط حمل کی مخالفت کرھی ہے ۔

اسقاط حمل کے سبب ماں نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتی ہے ۔

اسقاط حمل کے سبب کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

اسقاط حمل کے سبب عورتوں کی فرٹائلٹی یا بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوتی ہے

اسقاط حمل کے شکار بچے کو  مرنے سے قبل شدید درد اور اذیت کا سامنا کرتا ہے

ان حالات کو دیکھتے ہوۓ اس بات کا فیصلہ ہمیں خود کرنا پڑے گا کہ جس بات کی مخالفت دین اور دنیا ہر پلیٹ فارم پر ہو رہی ہے تو اس کا کوئی تو سبب ہو گا ۔

Please enter an Access Token on the Instagram Feed plugin Settings page.


Snap Chat Tap to follow