Article

‘میری نظریں میری مرضی’ خواتین کے بعد مردوں کے بھی مطالبات سامنے آگئے

879 views

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo PInk will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

خواتین کے عالمی حقوق کے دن کے حوالے سے کافی تنازعات نے جنم لے لیا ہے اس وقت سوشل میڈیا پر ہر جانب عورتوں اور مردوں کے درمیان اس حوالے سے بحث و تکرار دیکھنے میں آرہی ہے جس میں کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اگرچہ خزاتین کے مطالبات کسی حد تک درست ہین مگر کچھ مطالبات حقیقت سے بالاتر ہو کر بھی کیۓ گۓ ہیں

مساوات کے اس دور میں جہاں عورتوں کے حق کے لیۓ آوازیں اٹھ رہی ہیں وہاں مردوں نے بھی مساوات کے اصولوں کے تحت اپنے حق کے لیۓ آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور انہوں نے بھی مردوں کے حقوق کے دن کو منانے کا عندیہ دے دیا ہے

مردوں کی جانب سے خزاتین کے مطالبات کا جواب انہی کی طرح کے سائن بورڈ اٹھا کر کیا جا رہا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اب مرد چپ نہیں رہیں گے اور وہ بھی خواتین کی طرح کراچی کے فرئير ہال میں مرد مارچ کا انعقاد کریں گے تاہم اس حوالے سے ابھی تک تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا ہے

اس وقت ایک جانب تو سمشل میڈيا پر خواتین کے مارچ کے حوالے سے ان کے پلے کارڈ وائرل ہیں تو اس کے جواب میں مردوں کی جانب سے مطالبات اس وقت کا ٹوئٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے جس میں مردوں کا کہنا ہے کہ


اپنا کریڈٹ کارڈ بھی خود بنوا لو


تم کرو تو صرف دوستی اور ہم کریں تو گرل فرینڈ یا پھر لیڈیذ فرسٹ ہیں تو مرد فرسٹ کب ہوں گے یا پھر ان کو بھی خواتین کی طرح پک اینڈ ڈراپ دی جاۓ


اگر تم ماں بہن بیٹی بیٹی ہو تو کیا ہم باپ بھائی بیٹے نہیں ہیں ؟

جب کہ اس موقع پر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اس عورت مارچ اور مرد مارچ سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوۓ اس ضرورت پر زور دیا ہے کہ ہمیں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حقوق کا تعین کرنا چاہیۓ اس کے بعد کسی بھی مارچ کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے

اسلام وہ دین حق ہے جس نے عورت کو بلند درجہ عطا کیا ہے مگر مغربی معاشرے کی تقلید میں ہم اپنی تعلیمات فراموش کر بیٹھے ہیں جس کے سبب مسائل میں اضافے کے سوا کچھ نہیں ہوا ہے

Snap Chat Tap to follow
Place this code at the end of your tag: