Article

نجی تعلیمی ادارے نے سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں بکھیر دیں بچوں کا پیپر لینے سے انکار کر کے ان کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ویڈيو دیکھیں

35 views

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo PInk will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

پاکستان کے اندر دوہرا نظام تعلیم رائج ہے ایک جانب تو سرکاری اسکول ہیں جنہیں پہلے اردو میڈیم اسکول کہا جاتا ہے اور دوسری جانب انگلش میڈیم اسکول ہیں جو کہ نجی شعبے کے پاس ہیں اور کمرشل بنیادوں پر قائم کیۓ گۓ ہیں ۔ سرکاری اسکولوں کی زبوں حالی کے باعث ملک کے سفید پوش افراد اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں  میں تعلیم دلوانے کو ترجیح دیتے ہیں

سفید پوشوں سے لے کر اعلی طبقے کے افراد تک ہر قسم کے افراد کی جیب کے حساب سے معاشرے میں پرائیویٹ اسکول موجود ہیں جو جتنا افورڈ کر سکتا ہے اتنے ہی ماہانہ فیس والے اسکول میں اپنے بچے کو داخلہ کروا دیتا ہے یہاں تک کہ بچوں کو بڑے اور مہنگے اسکولوں میں داخلہ کروانا اسٹیٹس کی نمائش کا ایک ذریعہ بنا دیا گیا جس سے اسکولوں میں بھی برانڈڈ کی دوڑ کا آغاز ہوا

اس سبب نجی اسکولوں میں بھی طبقاتی فرق بڑھتا گیا اور اسکولوں کا ایک ایسا گروہ بھی وجود میں آیا جس میں عام انسان اپنے بچوں کو پڑھانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے اس نے کچھ نجی اسکولوں کی لالچ کو اس حد تک بڑھا دیا کہ انہوں نے تعلیم کے نام پر والدیں کی جیبوں سے آخری پائی تک کھینچنے کا منصوبہ بنا ڈالا

تنگ آکر اس حوالے سے کچھ والدین نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا جس پر گزشتہ سال سپریم کورٹ نے ان تمام اسکولوں کو مذید فیسوں میں اضافے سے نہ صرف روک ڈالا بلکہ ان پر جون جولائی کی فیس اکٹھی وصول کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی اور غیر قانونی طور پر وصول کی گئي فیسیں واپس لوٹانے کا حکم نامہ بھی جاری کر دیا دیگر صورتوں میں رجسٹریشن منسوخ کرنےکا حکم بھی جاری کر دیا

کیس کے عدالت میں ہونے کے سبب کئی والدین فیس کی رقم کے درست طور پر طے نہ ہونے کے سبب کئی والدین نے فیسوں کی ادائگیوں کا سلسلہ روک دیا جس پر گزشتہ دن کراچی کے ایک اسکول نے مڈ ٹرم امتحانات میں فیسوں کی عدم ادائگی پر بچوں کو امتحانات میں بٹھانے سے انکار کر دیا

جس پر والدین نے احتجاج کرتے ہوۓ اس موقع کی ویڈیو بنا لی والدین کا مطالبہ تھا کہ ان کے بچوں کو امتحان دینے سے نہ روکا جاۓ جب کہ اسکول والوں کا یہ کہنا تھا کہ گزشتہ سال مارچ سے ان والدین نے فیسوں کی ادائگی نہیں کی ہے اس حوالے سے انتظامیہ اس بات کا حق رکھتی ہے کہ فیسوں کی ادائگی تک بچوں کو امتحان دینے سے روک لے

والدین اور اسکول والوں کے درمیان گزشتہ سال سے شروع ہونے والا یہ جھگڑا بڑھتا جا رہا ہے اس معاملے کو جلد از جلد حل کر دینے کی ضرورت ہے کیوں کہ نجی اسکولوں کو بھی سرکار کی جانب سے کوئی گرانٹ نہیں مل رہی وہ اپنے تمام اخراجات انہی فیسوں سے پورا کرتے ہیں اور اگر والدین نے فیسیں ادا نہ کیں تویہ ادارے اپنے اخراجات کہاں سے پورے کریں گے

اس کے ساتھ اس بات کو بھی یاد رکھنا چاہیۓ کہ ملک بھر کے اسی فی صد بچوں کی تعلیم کا ذریعہ یہی نجی اسکولز ہیں سرکار تعلیم دینے کے معاملے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام ہے اور اگر نجی تعلیم اداروں نے بھی اس کام کا سلسلہ موقوف کر دیا تو بچوں کے مستقبل کا کیا ہو گا


Snap Chat Tap to follow