Article

بہاولپور :ویلکم پارٹی کو غیر اسلامی قرار دے کر شاگرد نے اپنے ہی استاد کو چھریوں کے وار کر کے بے رحمی سے قتل کر ڈالا

1147 views

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo PInk will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

پاکستان کی یونی ورسٹیوں  کے شاگرد کے اندر تشدد کا عنصر گزشتہ کچھ سالوں سے تیزی سے بڑھ رہا ہے اس کا ذمہ داری کسی کو بھی قرار دیا جاۓ مگر یہ رجحان حوصلہ افزا نہیں ہے اور اس سے تشدد کی ایسی فضا پروان چڑھ رہی ہے جو کہ معاشرے کے لیۓ انتہائی خطرنا ک ہے ۔بہاولپور میں ایس ای کالج کے طالب علم خطیب حسین کے ہاتھوں اس کے استاد خالد محمود کا قتل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے

خطیب حسین جو صادق ایگرنٹ کالج کا شعبہ انگریزی میں بی ایس کا پانچویں سیمسٹر کا طالب علم تھا اپنے ہم جماعتوں کے مطابق گزشتہ کچھ ماہ سے کافی تبدیل ہو گیا تھا اور اس کا رجحان بہت زیادہ مزہب کی جانب ہو گیا تھا یہاں تک کہ واٹس ایپ گروپ میں بھی وہ طالب علموں کے آپس میں ہنسی مزاق کو خلاف اسلام قرار دیتے ہوۓ مولانا خادم حسین رضوی کا حوالہ دیتے ہوۓ ہنسنے کو بھی خلاف دین قرار دینے لگا تھا

ہمیشہ کی طرح جب اس سال بھی شعبہ انگریزی میں نۓ آنے والے طالب علموں کو خوش آمدید کہنے کےلیے ایک ویلکم پارٹی کے انعقاد کا اعلان 21 مارچ کو کیا گیا تو اس حوالے سے طالب علموں کے ایک گروہ کی جانب سے اس امر کی مخالفت دیکھنے میں ائي اور انہوں نے ڈی سی او بہاولپور کے نام ایک باصابطہ درخواست بھی دی کہ اس طرح کے فنکشنز کا انعقاد غیر اسلامی ہے اس لیۓ اس کو روکا جاۓ

مگر اس بات سے کوئی بھی واقف نہ تھی کہ یہ مخالفت اس درجے پر پہنچ جاۓ گی کہ اس کا نتیجہ طالب علم خطیب حسین کے ہاتھوں پروفیسر خالد حمید کا بے رحمانہ قتل ہو

تفصیلات کے مطابق خطیب کی اسی فنکشن کے حوالے سے پروفیسر حالد حمید سے کلاس کے آغاز سے قبل بحث ہوئي جس پر اس نے اشتعال میں آکر پروفیسر کو چھریوں کے پے درپے وار کر کے موقع پر ہی ہلاک کر دیا اس کے بعد اطمینان سے کلاس میں بیٹھ گیا اس کو اپنے اس عمل پر کسی قسم کی کوئي شرمندگی نہ تھی

اس نے اپنے اقبالی بیان میں اس کو تسلیم کیا کہ اس نے اپنے پروفیسر کو ویلکم پارٹی کے انعقاد کے پلاننگ کرنے پر قتل کیا ہے اور اس کو اس حوالے سے کسی بھی قسم کی شرمندگی نہیں ہے

تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی یہ تشدد پسند سوچ ہم سب کے لیۓ ایک لمحہ فکریہ ہے اور اس کے سدباب کے لیے کچھ نہ کیا گیا تو مشال خان اور پروفیسر خالد حمید جیسے نقصان ہوتے رہیں گے

Snap Chat Tap to follow
Place this code at the end of your tag: