لاہور میوزیم کے باہر شیطانی مجسمہ ، آرٹ کا شاہکار یا یہودی سازش ؟ عوام شدید ترین اشتعال کا شکار

Article

لاہور میوزیم کے باہر شیطانی مجسمہ ، آرٹ کا شاہکار یا یہودی سازش ؟ عوام شدید ترین اشتعال کا شکار

196 views

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo PInk will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

لاہور میو زیم کا شمار پاکستان کے قدیم ترین میوزیم میں ہوتا ہے جہاں پر ادب کے اور پاکستانی تاریخ سے جڑے بہت سارے شاہکار موجود ہیں جو دیکھنے والوں کی دلچسپی کا سامان بننتے ہیں مگر حالیہ دنوں میں لاہور میوزيم بیس فٹ اونچے ایک شیطانی مجسمے کے سبب ملک بھر کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کچھ لوگون کے مطابق یہ مجسمہ یہودیوں کے خدا بفومیٹ کا مجسمہ ہے جس کو دجال بھی کہا جاتا ہے

یہ مجسمہ پنجاب یونی ورسٹی فائن آرٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک ڈگری یافتہ ارتباط الحسن کے تھیسز کا پروجیکٹ تھا جو کہ بیس فٹ اونچا تھا اور جگہ کی کمی کے سبب پنجاب یونی ورسٹی کی انتظامیہ نے عارضی طور پر لاہور  میوزیم کے باہر رکھوا دیا  تھا جس کو بعد ازاں وہاں سے منتقل کر دینا تھا مگر اس مجسمے کے وہاں ہونے سے عوامی راۓ عامہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئي

ایک جانب تو عنبرین قریشی نامی ایک وکیل نے لاہور ہائي کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کر دی جس میں فاضل جج سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ ایک تو میوزیم کی سیر کو آنے والے بچے اس مجسمے کو دیکھ کر خوفزدہ ہو رہے ہیں جب کہ دوسری جانب یہ شیطانی مجسمہ عوام کے اندر شیطانی خیالات اور جزبات کے فروغ کا سبب بن رہا ہے جس پر جج نے نہ صرف وکیل کی تعریف کی بلکہ فوری طور پر اس مجسمے کی منتقلی کا حکم بھی دے دیا

دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں یہودیوں کے خدا بفومیٹ کے مجسمے کی رونمائی کی تقریب دکھائی جا رہی ہے اور بفومیٹ اور اس شیطانی مجسمے میں بہت زیادہ مشابہت دیکھنے میں آرہی ہے جس سے اس بات کی تصدیق ہو رہی ہے کہ یہ مجسمہ درحقیقت یہودیوں کے خدا بفومیٹ کا ہی ہے

تیسری جانب اس مجسمے کے خالق ارتباط الحسن کا یہ کہنا ہے کہ ہم میں سے کسی نے بھی شیطان کو نہیں دیکھا یعنی کوئی یہ نہیں بتا سکتا ہے کہ شیطان کیسا ہوتا ہے وہ کیسا دکھائی دیتا ہے۔ موجودہ مجسمہ انسانیت اور حیوانی جذبات کی عکاسی پر مشتمل ہائیبرڈ تھیسس ہے۔ جانور اور انسان کے مابین فرق بڑا واضح ہے۔ جرمن ماہر فزکس کارسٹن بریش کے مطابق انسان حیوانوں کی سلطنت سے براہ راست وارد ہوا ہے۔ دونوں کے مابین ظاہری فرق صرف عزت نفس برقرار رکھنے کی صلاحیت کا موجود ہونا ہے

جب کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مجسمے کو لاہور ہائی کورٹ کے ججوں کے احکامات کے مطابق ایک سبز چادر سے ڈھک دیا گیا ہے اور اس کی منتقلی کے انتظامات کیۓ جا رہے ہیں یہ مجسمہ آرٹ کا فن پارہ تھا یا یہودیوں کی سازش یا دجال کا صیہونی روپ اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے مگر اس بات کی خوشی ہے کہ ہماری قوم بت شکن قوم ہے بت پرست نہیں

Please enter an Access Token on the Instagram Feed plugin Settings page.


Snap Chat Tap to follow